بھوپال،17/مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھوپال پارلیمانی حلقہ سے امیدوار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کے سلسلے میں دیئے گئے بیان سے نیا تنازعہ شرو ع ہوگیا ہے۔ مالیگاؤں بلاسٹ معاملہ میں ضمانت پر باہر پرگیہ ٹھاکر اپنے اس بیان پر اپنی پارٹی میں ہی گھر گئی ہے۔پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا آج ایک ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت بتا رہی ہیں۔ اس میں سادھوی نے کہا کہ گوڈسے دیش بھکت تھے اور رہیں گے۔ ان پر بولنے والے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔ واضح رہے کہ پرگیہ ٹھاکر کمل ہاسن کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کر رہی تھیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ناتھو رام گوڈسے اس ملک کا پہلا ہندو دہشت گرد تھا۔خبروں کے مطابق پرگیہ نے یہ بیان مدھیہ پردیش کے آگرمالوا ضلع میں آج ہی دیا ہے۔ پرگیہ نے اس موقع پر کانگریس کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کے لیڈر دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔واضح رہے کہ ناتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا اور اس کے بعد اسے پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ادھر، پرگیہ ٹھاکر کی پارٹی بی جے پی کی طرف سے اس کے بیان کی مذمت کی گئی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان جے وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا، ”پرگیہ ٹھاکر کے بیان سے بی جے پی متفق نہیں ہے۔ ہم اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں پارٹی پرگیہ ٹھاکر سے وضاحت طلب کرے گی۔ ان کو اپنے اس بیان کے لئے عوامی طور پر معافی مانگنی چاہیے۔“اس پر پرگیہ نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ معافی مانگنے کا تو سوال نہیں کیونکہ پارٹی لائن ہی میری لائن ہے۔
عمر اور محبوبہ کا سادھوی پرگیہ کے بیان پر سخت ردعمل: جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھوپال سے بی جے پی امیدوار سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے متنازعہ بیان کہ 'ناتھو رام گوڈسے حب الوطن تھے، حب الوطن ہیں اور حب الوطن رہیں گے ' پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ”اگر بابائے قوم کا قاتل محب وطن ہے تو کیا مہاتما گاندھی اینٹی نیشنل تھے؟'۔محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا 'جب ایک جنونی انتہا پسند ہندو جس نے گاندھی جی کا قتل کیا ہو کی دیش بھکتی کو سراہا جائے ایسے میں میں اینٹی نیشنل کہلانے پر فخر محسوس کرتی ہوں۔ ایسی قوم پرستی اور دیش بھکتی ہماری بس کی نہیں۔ یہ آپ کو مبارک“۔بتادیں کہ گزشتہ دنوں معروف اداکار اور مکّل نیدھی مایم پارٹی کے سربراہ کمل ہاسن نے کہا تھا کہ ”آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ہندو تھا اور اس کا نام ہے ناتھو رام گوڈسے“۔ کمل ہاسن نے تمل ناڈو کے قصبے پالاپٹی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ”میں یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا ہوں کیونکہ میں ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ہوں۔ میں یہ اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ یہاں گاندھی کا مجسمہ ہے۔ آزاد ہند کا پہلا انتہا پسند ہندو تھا اور اس کا نام ناتھو رام گوڈسے تھا۔ یہاں سے انتہا پسندی شروع ہوتی ہے۔ اچھے ہندوستانی مساوات چاہتے ہیں۔ اور ترنگے میں تینوں رنگوں کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ میں ایک اچھا ہندوستانی ہوں اور یہ میں فخر سے کہتا ہوں“۔۔